حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ مسجد بیت العتیق، جامعۃ العروۃ الوثقی لاہور میں سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان اور جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم علامہ سید جواد نقوی نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ غزہ کے مظلوم مسلمان مضبوط افواج رکھنے والے مسلم ممالک سے فریاد کرتے رہے، مگر اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدام نہیں کیا گیا حتیٰ کہ غزہ تباہ کرنے والوں کے لیے نوبل انعام کی تجویز جیسی شرمناک بات سامنے آئی۔ مسلم ممالک کی اس خاموشی نے ظالموں کو مزید شہ دی، جس کے نتیجے میں جنگ غزہ سے لبنان، ایران اور یمن تک پھیل گئی۔ آج ان محاذوں کو نشانہ بنانے اور محاصرے کا مقصد مزاحمتی محاذ کو ختم کرنا ہے۔ یمن کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ اور فلسطین کی حمایت میں عملی کردار ادا کیا، حالانکہ وہ خود بھی برسوں سے جنگ اور تباہی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حرمین شریفین کے نام پر عوام کو مشتعل کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کی کوششیں انتہائی خطرناک ہیں۔ اہل سنت کی بڑی تعداد فلسطین اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی حامی ہے، لیکن بعض تکفیری، ناصبی اور کالعدم گروہ سنی شناخت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ریاست کا بیانیہ خوارج اور کالعدم تنظیموں کے بیانیے سے الگ ہونا چاہیے۔ یمن اور ایران میں جاری جنگیں بالآخر ختم ہو جائیں گی، لیکن پاکستان میں اگر فرقہ وارانہ آگ بھڑکا دی گئی تو اس کے اثرات افغان جنگ کی طرح کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی، سیاسی بحران، داخلی عدم استحکام اور فتنۃ خوارج جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو بیرونی جنگوں کا میدان بنانے کے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
علامہ سید جواد نقوی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ حرمین شریفین کے نام پر اشتعال انگیز بیان بازی سے گریز کریں اور حساس معاملات کو عوامی جذبات بھڑکانے کے بجائے سفارتی ذرائع، خطوط اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حقیقی مدد یمن پر مزید حملوں کی حمایت میں نہیں، بلکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان مفاہمت، حملوں کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے میں ہے۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کروا کر ایک بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ پاکستان بیرونی دباؤ کے تحت اپنے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالے، بلکہ قومی یکجہتی برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے قیام اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے فعال سفارت کاری کرے۔










آپ کا تبصرہ